Poor people

غریب بھی کیا عجیب لوگ ہیں ملک کے کونے کونے پر بستے ہیں ، دنیا   کو پتھر کے زمانے سے  لے کر گلوبل ویلیج بنانے تک بنیادیں یہی  فراہم کرتے ہیں  لیکن مجال ہے کہ اس غربت زدہ طبقے نے کبھی  اپنے ہونے کا احساس دلایا ہو۔ یہ  تو بھلا ہو امیروں کا،سرمایہ داروں کا، صاحب اقتداروں کا اور سیاستدانوں کا جو انھے ضرورت پڑنے پر دنیا سے معتارف کرواتے رہتے ہیں۔ یہ تو بس اپنی ساری زندگی  دو وقت کی   روٹی کی جدوجہد میں   گزار  کر اس جہاں کو ہمیشہ کے لئے خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔ اور دنیا کو خیر آباد بھی کچھ اس انداز سے کہتے ہیں کہ  ان کا کوئی نقوش اس دنیا میں باقی نہیں رہتا۔
یہ وہ لوگ ہیں  جن کی خدمت کا نعارہ لگا کر ہر پانچ سال بعد کئی انقلابی غریب پرور نظریات، پارٹی  سب کچھ بدل لیتے ہیں۔اسی طبقے کو عدالتوں میں چھوٹے چھوٹے مقدمات کی بیناء پر کئی کئی نسلوں تک نوچا جاتا ہے۔یہی معصوم جانوروں کی  خشک گوبر کو جلا کر اپنے لیے کھانا پکاتے ہیں،یہ زندگی بھر صاف پانی نہیں نوش کر پاتے۔یہ صحرائے    تھر میں بھوکے مر جاتے ہیں لیکن کوئی ان کے  دکھوں  اور  تکلیفوں  کا مداوا کرنے نہیں پہنچ پاتا۔
یہ غریب بھی کیا لوگ ہیں محض  اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے زمین کا سینہ چیر کر خزانے باہر نکال لے آتے ہیں اور خزانے بھی ایسے جو ان کے کام کبھی نہیں آتے اور پھر آخر میں انھی خزانوں کی تلاش میں نہیں نہیں بلکہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے دو وقت کی روٹی کی تلاش میں مٹی کے ڈھیر تلے دب کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور پھر اقتدار کے ایوانوں میں  ان غریبوں کی خدمات کے بدلے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہاں انھیں کوئی گارڈ آف آنر نہیں پیش کیا جاتا نہ ہی ان کے اولادوں کی پرورش کی  ذمہ داری لی جاتی ہے نہ ہی ان کے حق میں ریلیاں نکلتی ہیں نہ ہی کوئی دھرنا دیتا ہے۔
ان غریبوں کے بچے کبھی سکول کی دہلیز پر قدم نہیں رکھ پاتے۔یہ لوگ تپ تپاتی دھوپ میں اور کپ کپاتی سردی میں جاگیرداروں کی فصلوں کو بوتے اور کاٹتے رہتے ہیں لیکن صرف دو وقت کا کھانا کھانے کے لئے۔ کبھی انھیں جعلی پولیس مقابلوں میں مار دیا  جاتا ہے تو کبھی ان کی عزتیں روزی روٹی کے لئے صاحب  ثروت کی محفلوں کو رونق بخشتی ہیں لیکن کسی غیرت مند کی غیرت نہیں جاگتی۔ خیر ان کی کہانی بہت طویل ہے رہنے دی جیئے۔
آج جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی بات کی گئی تو ایک مرتبہ پھر ضرورت کے پیش نظر ان غریبوں کو یاد کیا گیا کوئی ان کے لئے رویا بھی شاید کہ اگر لاک ڈاؤن کی سختیاں یوں ہی جاری رھیں تو یہ غریب لوگ مر جائیں گے لیکن کیسے؟؟ بیچارے غریب نہ کسی  فیکٹری کے مالک ہیں اور نہ ان کی کوئی کمپنی ہے نہ ہی یہ سرمایہ دار ہیں اور نہ ہی بزنس مین ایسے میں لاک ڈاؤن میں سختی ہو یا نرمی ان کی دوڑ تو بس روٹی تک محدود ہے یہ تو عام حالات میں بھی  روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں بھوک سے مر جاتے ہیں پھر ان کے غم میں رونا تو بس مگرمچھ کے آنسو ہیں۔اصل میں تو یہ لاک ڈاؤن چینی کی ملوں کے آنرز کے لئے نقصان دے ہے، فیکٹریوں کے مالکان کے لئے نقصان داہ  ہے،سرمایہ داروں  کےلیے نقصان دے ہے۔ غریب تو پہلے ہی زندگی کے اوسطاً پچاس سے ساٹھ سال کی عمر لاک ڈاؤن میں گزارتا ہے جہاں اس کے لیے   کینسر جیسے مرض کے علاج کے لئے بھی ڈسپرین ہی کارآمد سمجھی جاتی ہے۔
اگر کوئی واقعی ان غریبوں کی تکلیفوں کو سمجھنے کی کوشش  کرتا  تو محض بارہ ہزار کے امدادی پیکج کے نام پر  ان غریبوں سے اتنی جانچ پڑتال نہ کی  جاتی کوئی انھیں یہ نہ بولتا کہ تمھارا خاوند بچے پیدا کرنے کے علاوہ کیا کرتا ہے بلکے انھیں بھی کہا جاتا آؤ ہم تمھیں  روزگار کا موقع فراہم کرتے ہیں آؤ ہم تمھارا علاج بھی شوکت خانم،شریف ہسپتال  جیسے نامی گرامی ہسپتالوں سے کرواتے  ہیں۔ کوئی اعلان کرتا کہ اگر غریب ایک ماہ کا خرچہ بارہ ہزار میں چلائے گا تو ملک کا ہر خاص و عام بھی ان ہنگامی حالات میں اپنا ماہانہ خرچ اتنا ہی رکھنے کا پابند ہو گا۔ پھر ہم باآواز بلند اقرار کرتے کہ ہمارے دکھ سکھ سانجھے ہیں۔
غریب کی آواز عرش ہلا دیتی ہے اس  لئے ان کی امداد کے لئے حقیقی معنوں میں اور مستقل بنیادوں پر کوئی اقدامات کیے جائیں نہ کہ بارہ ہزار دے کر مذاق اڑایا جائے۔ سنا ہے جب مسلمانوں سے اندلس چھینا گیا تو اس سلطنت کا آخری بادشاہ اس غم میں  رو رہا تھا تو اس وقت اس کی ماں نے تاریخی الفاظ ادا کیے تھے اور کہا تھا کہ  جس سلطنت کی مرد بن کر حفاظت نہیں کر پائے اس کے لئے عورتوں کی طرح رونے کا فائدہ نہیں ہے۔ آج بھی شاید کئی مائیں یہ کہہ رہی ہوں کہ جن غریبوں کے لئے ملک کا سربراہ بن کر کچھ نہ کیا جا سکا ان کے لیے رونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ 
الفاظ اور ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔
تحریر ثاقب کیانی

Comments

Post a Comment